ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / الیکشن کمیشن کافیصلہ: بنگال میں ای وی ایم کے پاس نہ تو مرکزی فورسز جا پائیں گی نہ پولیس

الیکشن کمیشن کافیصلہ: بنگال میں ای وی ایم کے پاس نہ تو مرکزی فورسز جا پائیں گی نہ پولیس

Wed, 01 May 2019 21:15:12    S.O. News Service

کولکاتہ، یکم مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کے ابتدائی چار مراحل میں ووٹنگ کے دوران مغربی بنگال میں ہوئے تشدد پر بڑا ایکشن ہوا ہے۔الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ 6 مئی کو ہونے والے پانچویں مرحلے کی پولنگ کے لئے جہاں پر ای وی ایم مشین رکھی جائیں گی وہاں پر نہ تو بنگال کی پولیس جا پائے گی اور نہ ہی مرکزی فورسز جا پائیں گی،دونوں تبھی ای وی ایم والی جگہ پر جا سکتے ہیں، جب وہاں موجود الیکشن افسر انہیں اس بات کی اجازت دیتے ہیں۔یعنی جس جگہ ووٹنگ ہونی ہے وہاں صرف الیکشن افسر ہی موجود رہیں گے۔اس سے پہلے خبر تھی کہ پولنگ بوتھ کے اندر صرف مرکزی فورسز کی تعیناتی ہوگی،یعنی ریاست کی پولیس کو پولنگ بوتھ سے دور رکھا جائے گا لیکن بعد میں واضح کیا گیا کہ اب دونوں کو ہی ووٹ ڈالنے والی جگہ نہیں جانے دیا جائے گا۔گزشتہ مراحل میں ہوئے تشدد کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے شکایت کی تھی کہ مرکزی فورسز کو ہٹا کر ریاستی پولیس کو پولنگ بوتھ پر تعینات کیا جا رہا ہے اور انتخابات کو متاثر کیا جا رہا ہے۔مغربی بنگال کے اسپیشل پولیس معائنہ نگاروویک دوبے نے بیان دیا ہے کہ اس مرحلے میں سو فیصد پولنگ بوتھ کو مرکزی فورسز کی طرف سے ہی کور کرے گا۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ آنے والے مراحل میں اسی طرح سے پولنگ کرائی جائے گی۔6 مئی کو ہونے والے پانچویں مرحلے کی پولنگ میں مغربی بنگال کی بگاو، بیرک پور، ہاؤڑہ، البیریا، شری رامپور، ہگلی، آرام باغ سیٹ پر ووٹ ڈالے جانے ہیں۔

گزشتہ چار مراحل میں بنگال میں کئی جگہ تشدد ہوا ہے۔چوتھے مرحلے میں ہی بی جے پی لیڈربابل سپریو کی بھی پولنگ بوتھ کے اندر جھڑپ ہو گئی تھی، جس کے بعد ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا گیا تھا۔آسنسول میں بی جے پی کارکنوں نے مرکزی فورسز کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہوئے ووٹ کو روک دیا تھا، جس کے بعد ٹی ایم سی-بی جے پی کارکنوں میں جھڑپ ہوئی تھی۔حالات کو قابو میں کرنے کے لئے مقامی پولیس کو لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا تھا۔


Share: